Posts

Showing posts from February, 2020
Image
محمد علی جناح جیت گئے ۔ مبارک ہو .. دو قومی نظریہ کا مقدمہ آج محمد علی جناحؒ بھرپور طریقے سے جیت گئے ۔  مقدمہ پاکستان : گاندھی کا نظریہ قومیت اور قائداعظم کا نقطہ نظر سے تحریکِ پاکستان و قائدِ تحریکِ پاکستان ایک ایسی حقیقت ہیں جنہیں افسانوی کہانی کے طور پر پیش کرنا محال ہے اور نہ ہی انہیں منظر کشی و منظر نگاری، خیال آرائی، شوکتِ الفاظ، مصرعوں کی تابانی، نکتہ سنجی، رائج الوقت شعری محاسن سے بیان کیا جا سکتا ہے-اسے صوت و آہنگ کی گھتیوں سے سُلجھانا تو در کنار بلکہ مذکورہ تحریک کے کارناموں اور کارکنوں کے جذبوں کو لفظوں کی مالا سے آج قوم کو آشنا کروانا بعید از قیاس ہی ہے-الغرض ! الفاظ و زبان سےنقشہ کھینچنا ناممکنات میں سے لگتا ہے- اسی بات کواقبالؒ ملت اسلامیہ کے معماروں کو شاندار ماضی یاد دلاتے ہوئےکچھ یوں فرماتے ہیں: اگر چاہوں تو نقشہ کھینچ کر الفاظ میں رکھ دوں مگر تیرے تخیّل سے فزوں تر ہے وہ نظّارا منطقی ذہن،قانونی پیچیدگی، سیاسی معاملات اور ہندوانہ ذہنیت کو دوربین و دور اندیش قائد تحریکِ پاکستان،قائد اعظمؒ کامل طور پر سمجھتے تھے- قائد اعظم برصغیر کی سیاست کو کثی...
Image
ایک ریچھ جو خرگوش بن گیا ۔ کسی جنگل میں ایک "خرگوش" کی اسامی نکلی۔ ایک بے روزگار اور حالات کے مارے ریچھ نے بھی اس کیلئے درخواست جمع کرا دی۔  اتفاق سے کسی خرگوش نے درخواست نہیں دی تو اسی ریچھ کو ہی خرگوش تسلیم کرتے ہوئے ملازمت دیدی گئی۔  ملازمت کرتے ہوئے ایک دن ریچھ نے محسوس کیا کہ جنگل میں ریچھ کی ایک اسامی پر ایک خرگوش کام کر رہا ہے اور اسے ریچھ کا مشاہرہ اور ریچھ کی مراعات مل رہی ہیں۔ ریچھ کو اس نا انصافی پر بہت غصہ آیا کہ وہ اپنے قد کاٹھ اور جثے کے ساتھ بمشکل خرگوش کا مشاہرہ اور مراعات پا رہا ہے جبکہ ایک چھوٹا سا خرگوش اس کی جگہ ریچھ ہونے کا دعویدار بن کر مزے کر رہا ہے۔ ریچھ نے اپنے دوستوں اور واقفکاروں سے اپنے ساتھ ہونے والے اس ظلم و زیادتی کے خلاف باتیں کیں، سب دوستوں اور بہی خواہوں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ فوراً اس ظلم کے خلاف جا کر قانونی کارروائی کرے۔  ریچھ نے اسی وقت جنگل کے ڈائریکٹر کے پاس جا کر شکایت کی، ڈائریکٹر صاحب کو کچھ نہ سوجھی، کوئی جواب نہ بن پڑنے پر اس نے شکایت والی فائل جنگل انتظامیہ کو بھجوا دی۔ انتظامیہ نے اپنی جان چھڑوانے کی...
Image
۔نائی اور غربت دی چس ... ایک گاوں میں غریب نائی رہتا تھا جو ایک درخت کے نیچے کرسی لگا کے لوگوں کی حجامت کرتا ۔ مشکل سے گزر بسر ہوتی. اس کے پاس رہنے کو نہ گھر تھا نہ بیوی تھی نہ بچے تھے۔ ایک چادر اور ایک تکیہ اس کی ملکیت تھی ۔جب رات ہوتی تو وہ ایک بند سکول کے باہر چادر بچھاتا، تکیہ رکھتا اور سو جاتا.  ایک دن صبح کے وقت گاوں میں سیلاب آ گیا.  اس کی آنکھ کھلی تو ہر طرف شور و غل تھا۔ وہ اٹھا اور سکول کے ساتھ بنی ٹینکی پر چڑھ گیا. چادر بچھائی، دیوار کے ساتھ تکیہ لگایا اور لیٹ کر لوگوں کو دیکھنے لگا ۔ لوگ اپنا سامان، گھر کی قیمتی اشیا لے کر بھاگ رہے تھے.  کوئی نقدی لے کر بھاگ رہا ہے، کوئی زیور  کوئی بکریاں تو کوئی کچھ قیمتی اشیا لے کر بھاگ رہا ہے۔ اسی دوران ایک شخص بھاگتا آ رہا تھا اس نے سونے کے زیور پیسے اور کپڑے اٹھا رکھے تھے۔جب وہ اس نائی کے پاس سے گزرا تو اسے سکون سے لیٹے ہوئے دیکھا تو رک کر بولا۔۔۔ اوئے ساڈی ہر چیز اجڑ گئی اے. ساڈی جان تے بنی اے،  تے تو ایتھے سکون نال لیٹا ہویا ویں۔۔۔۔ یہ سن کر وہ ہنس کر بولا : لالے اج ای تے غربت دی چس آئ...
Image
قصور تو پاکستان کا بھی اتنا ہی تھا ۔   قصور تو پاکستان کا بھی اتنا ہی تھا ، لیکن اپنا وجود        کیوں قائم کئے ہوئے ہے ۔                                                    سیریا(شام تیل - لوہا - میگنیشیم - فاسفیٹ - نمک - ماربل - جپسم جیسے بیشمار خزانے اپنے ساتھ رکھتا ہے۔                                                         عراق:- بنٹونیٹ- سیمنٹ۔ جپسم۔ ایرن اکسیڈ - سلفر ۔ تیل فاسفورس ،اور اس سے بنی کھاد سے مالا مال ملک۔                                                              لیبیا:- کلے(clay) - تیل - سونا۔  ج...
Image
                دنیا کی پہلی خاتون ہائی جیکرز    دنیا کی پہلی خاتون ہائی جیکر جس نے جہاز اغوا کرنے کے لئے 6 بار پلاسٹک سرجری کروائی. دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک کام  ہائی جیکنگ ہے جس میں کسی  بھی ملک کا طیارہ اغوا کرنا اور اس کے ذریعےاپنے مطالبات منوانا ہے ہائی جیکنگ جیسے جرم میں اول تو کسی خاتون کا ملوث ہونا ہی حیرت کی بات ہے لیکن کسی نوجوان لڑکی کا جہاز ہائی جیک کرنا، پھر پلاسٹک سرجری سے اپنی شکل تبدیل کرانا، اور ایک بار پھر ہائی جیکنگ کرنا، یہ تو یقیناً ایسی حیران کن کہانی ہے جو فلمی لگتی ہے۔ لیکن دنیا میں یہ واحد مثال فلسطینی خاتون لیلیٰ خالد ہے.  جس نے ایک نہیں دو بار جہاز ہائی جیک کیا. لیلی خالد  نے بچپن میں ہی فلسطین کی آزادی تحریک میں شمولیت اخیتار کی ۔اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک متحرک کارکن بن کر سامنے آئی۔  لیلیٰ خالد اور ان کے ساتھیوں نے 1968ء اور1971ء کے درمیانی عرصے میں 4 جہازاغوا کئے۔ فلسطین لبریشن فرنٹ  میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد لیلیٰ خالد نے پہلاجہاز 29اگست 1969ء کو اغو...