تیرا پیو چوہدری میں نائ ٹھیک آں
تیرا پیو چوہدری میں نائ ٹھیک آں۔
تصنیف طنزومزاح سے اقتباس!
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاءوں میں چوہدری رہتا تھا جس پہ اللہ کی بہت رحمت تھی۔ پورا گاؤں حالانکہ اس کے کچھ رشتے دار بھی حسد رکھتے تھے۔
اسی گاؤں میں ایک نائ رہتا تھا جو کہ خاندانی حجام تھا اور شادی بیاہ کے موقع پر لوگوں کے گھروں میں جا کے کام کاج کر کے گزر بسر کرتا تھا ۔نائ کا سب سے چھوٹا بیٹا جس کا نام شامو نائ تھا نہایت آوارہ ،بد کردار اور لالچی تھا جس پہ ہر وقت امیر بننے کا بھوت سوار رہتا تھا اور وہ خود کو چوہدری کہلواتا اور جو اسے نائ کہتا اس سے جھگڑا کرنے لگتا ۔ ایک دن گاؤں میں ایک جوگی آیا اور لوگ جوق در جوق اس کے پاس اپنے مسائل لے کر جانے لگے۔
شامو نائ کو جب پتہ چلا تو وہ بھی جوگی کے پاس آ دھمکا ۔ شامو نائ نے جوگی کو بتایا کہ وہ امیر بننا چاہتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ لوگ اسے شامو نائ کی بجائے شامو چوہدری صاحب مخاطب کریں ۔
جوگی نے اسے بتایا کہ ہر جمعرات کی رات چوہدری کے گھر کی چھت پہ دولت کی دیوی آتی ہے ۔ اگر تم اس جگہ پہنچ کر لمبا سجدہ کرو تو تمہیں دولت ملے گی اور تم شامو نائ سے شامو چوہدری بن جاءو گے لیکن یہ شرط ہے کہ اسے یہ پتا نہ لگے کہ تم نائ ہو ۔
شامو نے فیصلہ کر لیا کہ وہ دولت کی دیوی سے ضرور ملے گا ۔ جوں توں کر کے تین دن گزارے اور ایک رات چوہدری کے گھر کی چھت پہ پہنچ گیا ۔ رب کی کرنی کہ چوہدری کے ملازم نے شامو کو دیکھ لیا اور جا کہ بتایا کہ میرو نائ کا چھوکرا چھت پہ چوری کے لئے چھپا ہوا ہے ۔
شامو نائ چھت پہ جاتے ہی لمبے سجدے میں چلا گیا ۔ ادھر چوہدری اپنے ملازم کے ساتھ چھت پہ پہنا تو دیکھ کہ دنگ رہ گیا کہ چور چھت پر کان لگا کہ جاسوسی کر رہا ہے ۔ یہ سب دیکھتے ہی سیخ پا ہو گیا ۔ ادھر شامو نے قدموں کی آہٹ سنی تو اسے یقین ہو گیا کہ دولت کی دیوی آ گئ ہے ۔
چوہدری کے ملازم نے آگے بڑھ کر شامو نائ پہ کپڑا ڈال دیا اور دونوں نے مل کہ اسے پیٹنا شروع کر دیا ۔ چوہدری نے کہا کہ تم نائ ہو تو اس نے کہا کہ میں چوہدری ہو ۔ یہ سن کر چوہدری کو اور غصہ آ گیا اور زور زور سے مارنے لگا۔ جب نائ کی خوب درگت بن گئ اور بہت زیادہ پٹ چکا تو چوہدری نے گرج کر پوچھا کہ اب بتا تو کون ہے ۔ شامو نائ نے روتے ہوئے کہا ۔
""تیرا پیو چوہدری میں نائ ٹھیک آں""
پھر وہ دن گیا اور مرتے دم تک وہ خود کو شامو نائ ولد میرو نائ کہلواتا تھا۔
آجکل کے معاشرے میں بہت لوگ اپنی قوم بدل لیتے ہیں جو کہ ایک مکروہ اور غیر اخلاقی عمل ہے اور اسلام میں بھی نا پسندیدہ اور قابل سزا عمل ہے ۔
اسلام میں نسب تبدیل کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے اور ایسا کرنے پر سخت وعید بھی آئی ہے۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَی لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ إِلَّا کَفَرَ وَمَنِ ادَّعَی قَوْمًا لَيْسَ لَهُ فِيهِمْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.
جو شخص جان بوجھ کر اپنے آپ کو باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی جانب منسوب کرے تو اس نے کفر کیا اور جو ایسی قوم میں سے ہونے کا دعویٰ کرے جس میں سے نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔
بخاري، الصحيح، كتاب المناقب، باب نسبة اليمن إلى إسماعيل، 3: 1292، رقم: 3317، بيروت: دار ابن كثير اليمامة
مسلم، الصحيح، كتاب الإيمان، باب بيان حال إيمان من رغب عن أبيه وهو يعلم، 1: 79، رقم: 61، دار إحياء التراث العربي
اس حدیث کی شرح میں علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:
وَفِي الْحَدِيثِ تَحْرِيمُ الِانْتِفَاءِ مِنَ النَّسَبِ الْمَعْرُوفِ وَالِادِّعَاءِ إِلَى غَيْرِهِ وَقَيَّدَ فِي الْحَدِيثَ بِالْعِلْمِ وَلَا بُدَّ مِنْهُ فِي الْحَالَتَيْنِ إِثْبَاتًا وَنَفْيًا لِأَنَّ الْإِثْمَ إِنَّمَا يَتَرَتَّبُ عَلَى الْعَالِمِ بِالشَّيْءِ الْمُتَعَمِّدِ لَهُ.
اس حدیث میں کسی معروف نسب سے تعلق کا دعویٰ کرکے انتفاء و اغراض مقاصد حاصل کرنا حرام ہے، اور حرام اسی وقت ہوگا جب کوئی ایسا قصدا اور جانتے ہوئے کرے، کیونکہ گناہ کا ترتب تب ہی ہوگا جب اس کو جانتے ہوئے اور قصداً کیا جائے۔
عسقلاني، فتح الباري، 6: 541، بيروت: دار المعرفة
ایک حدیث میں ہے کہ ایسے شخص پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوتی ہے:
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ انْتَسَبَ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے باپ کے غیر سے نسب ظاہر کیا یا اپنے آقا کے غیر کو اپنا آقا بنایا تو اس پر اﷲ اور اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔
ابن ماجه، السنن، كتاب الحدود، باب من ادعى إلى غير أبيه أو تولى غير مواليه، 2: 870، رقم: 2609، بيروت: دار الفكر
تصنیف طنزومزاح سے اقتباس!
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاءوں میں چوہدری رہتا تھا جس پہ اللہ کی بہت رحمت تھی۔ پورا گاؤں حالانکہ اس کے کچھ رشتے دار بھی حسد رکھتے تھے۔
اسی گاؤں میں ایک نائ رہتا تھا جو کہ خاندانی حجام تھا اور شادی بیاہ کے موقع پر لوگوں کے گھروں میں جا کے کام کاج کر کے گزر بسر کرتا تھا ۔نائ کا سب سے چھوٹا بیٹا جس کا نام شامو نائ تھا نہایت آوارہ ،بد کردار اور لالچی تھا جس پہ ہر وقت امیر بننے کا بھوت سوار رہتا تھا اور وہ خود کو چوہدری کہلواتا اور جو اسے نائ کہتا اس سے جھگڑا کرنے لگتا ۔ ایک دن گاؤں میں ایک جوگی آیا اور لوگ جوق در جوق اس کے پاس اپنے مسائل لے کر جانے لگے۔
شامو نائ کو جب پتہ چلا تو وہ بھی جوگی کے پاس آ دھمکا ۔ شامو نائ نے جوگی کو بتایا کہ وہ امیر بننا چاہتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ لوگ اسے شامو نائ کی بجائے شامو چوہدری صاحب مخاطب کریں ۔
جوگی نے اسے بتایا کہ ہر جمعرات کی رات چوہدری کے گھر کی چھت پہ دولت کی دیوی آتی ہے ۔ اگر تم اس جگہ پہنچ کر لمبا سجدہ کرو تو تمہیں دولت ملے گی اور تم شامو نائ سے شامو چوہدری بن جاءو گے لیکن یہ شرط ہے کہ اسے یہ پتا نہ لگے کہ تم نائ ہو ۔
شامو نے فیصلہ کر لیا کہ وہ دولت کی دیوی سے ضرور ملے گا ۔ جوں توں کر کے تین دن گزارے اور ایک رات چوہدری کے گھر کی چھت پہ پہنچ گیا ۔ رب کی کرنی کہ چوہدری کے ملازم نے شامو کو دیکھ لیا اور جا کہ بتایا کہ میرو نائ کا چھوکرا چھت پہ چوری کے لئے چھپا ہوا ہے ۔
شامو نائ چھت پہ جاتے ہی لمبے سجدے میں چلا گیا ۔ ادھر چوہدری اپنے ملازم کے ساتھ چھت پہ پہنا تو دیکھ کہ دنگ رہ گیا کہ چور چھت پر کان لگا کہ جاسوسی کر رہا ہے ۔ یہ سب دیکھتے ہی سیخ پا ہو گیا ۔ ادھر شامو نے قدموں کی آہٹ سنی تو اسے یقین ہو گیا کہ دولت کی دیوی آ گئ ہے ۔
چوہدری کے ملازم نے آگے بڑھ کر شامو نائ پہ کپڑا ڈال دیا اور دونوں نے مل کہ اسے پیٹنا شروع کر دیا ۔ چوہدری نے کہا کہ تم نائ ہو تو اس نے کہا کہ میں چوہدری ہو ۔ یہ سن کر چوہدری کو اور غصہ آ گیا اور زور زور سے مارنے لگا۔ جب نائ کی خوب درگت بن گئ اور بہت زیادہ پٹ چکا تو چوہدری نے گرج کر پوچھا کہ اب بتا تو کون ہے ۔ شامو نائ نے روتے ہوئے کہا ۔
""تیرا پیو چوہدری میں نائ ٹھیک آں""
پھر وہ دن گیا اور مرتے دم تک وہ خود کو شامو نائ ولد میرو نائ کہلواتا تھا۔
آجکل کے معاشرے میں بہت لوگ اپنی قوم بدل لیتے ہیں جو کہ ایک مکروہ اور غیر اخلاقی عمل ہے اور اسلام میں بھی نا پسندیدہ اور قابل سزا عمل ہے ۔
اسلام میں نسب تبدیل کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے اور ایسا کرنے پر سخت وعید بھی آئی ہے۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَی لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ إِلَّا کَفَرَ وَمَنِ ادَّعَی قَوْمًا لَيْسَ لَهُ فِيهِمْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ.
جو شخص جان بوجھ کر اپنے آپ کو باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی جانب منسوب کرے تو اس نے کفر کیا اور جو ایسی قوم میں سے ہونے کا دعویٰ کرے جس میں سے نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔
بخاري، الصحيح، كتاب المناقب، باب نسبة اليمن إلى إسماعيل، 3: 1292، رقم: 3317، بيروت: دار ابن كثير اليمامة
مسلم، الصحيح، كتاب الإيمان، باب بيان حال إيمان من رغب عن أبيه وهو يعلم، 1: 79، رقم: 61، دار إحياء التراث العربي
اس حدیث کی شرح میں علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:
وَفِي الْحَدِيثِ تَحْرِيمُ الِانْتِفَاءِ مِنَ النَّسَبِ الْمَعْرُوفِ وَالِادِّعَاءِ إِلَى غَيْرِهِ وَقَيَّدَ فِي الْحَدِيثَ بِالْعِلْمِ وَلَا بُدَّ مِنْهُ فِي الْحَالَتَيْنِ إِثْبَاتًا وَنَفْيًا لِأَنَّ الْإِثْمَ إِنَّمَا يَتَرَتَّبُ عَلَى الْعَالِمِ بِالشَّيْءِ الْمُتَعَمِّدِ لَهُ.
اس حدیث میں کسی معروف نسب سے تعلق کا دعویٰ کرکے انتفاء و اغراض مقاصد حاصل کرنا حرام ہے، اور حرام اسی وقت ہوگا جب کوئی ایسا قصدا اور جانتے ہوئے کرے، کیونکہ گناہ کا ترتب تب ہی ہوگا جب اس کو جانتے ہوئے اور قصداً کیا جائے۔
عسقلاني، فتح الباري، 6: 541، بيروت: دار المعرفة
ایک حدیث میں ہے کہ ایسے شخص پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوتی ہے:
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ انْتَسَبَ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے باپ کے غیر سے نسب ظاہر کیا یا اپنے آقا کے غیر کو اپنا آقا بنایا تو اس پر اﷲ اور اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔
ابن ماجه، السنن، كتاب الحدود، باب من ادعى إلى غير أبيه أو تولى غير مواليه، 2: 870، رقم: 2609، بيروت: دار الفكر
Comments
Post a Comment